Poetry

دل مردہ دل نہيں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ کہ يہي ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ

Spread the love

دل مردہ دل نہيں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ
کہ يہي ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ

ترا بحر پر سکوں ہے، يہ سکوں ہے يا فسوں ہے؟
نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابي کنارہ

تو ضمير آسماں سے ابھي آشنا نہيں ہے
نہيں بے قرار کرتا تجھے غمزہ ستارہ

ترے نيستاں ميں ڈالا مرے نغمہ سحر نے
مري خاک پے سپر ميں جو نہاں تھا اک شرارہ

نظر آئے گا اسي کو يہ جہان دوش و فردا
جسے آگئي ميسر مري شوخي نظارہ

ALSO READ:
یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب بہشت مغربیاں جلوہ ہائے پا برکاب

:احمد فراز کی مشہور غزل
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

:جون ایلیاء کی مشہود غزل
تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *