Poetry

ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

Spread the love

ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز
اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی
کیا ہے اس نے فقیروں کو وارث پرویز

پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

کسے خبر ہے کہ ہنگامۂ نشور ہے کیا
تری نگاہ کی گردش ہے میری رستاخیز

نہ چھین لذت آہ سحرگہی مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

دل غمیں کے موافق نہیں ہے موسم گل
صدائے مرغ چمن ہے بہت نشاط انگیز

حدیث بے خبراں ہے تو با زمانہ بساز
زمانہ با تو نہ سازد تو با زمانہ ستیز

ALSO READ:
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر

دل مردہ دل نہيں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ کہ يہي ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ

یہ حوریان فرنگی دل و نظر کا حجاب بہشت مغربیاں جلوہ ہائے پا برکاب

Pakistan’s geographical importance

افسوس رہے گا ماہرہ نے میری زندگی پر بننے والے ڈرامے میں کام کیا، خلیل الرحمان

يوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے اک ذرا افسردگي تيرے تماشائوں ميں تھي

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *