Poetry

یہ کون غزل خواں ہے پر سوز و نشاط انگیز اندیشۂ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

Spread the love

یہ کون غزل خواں ہے پر سوز و نشاط انگیز
اندیشۂ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

گو فقر بھی رکھتا ہے انداز ملوکانہ
ناپختہ ہے پرویزی بے سلطنت پرویز

اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی
خون دل شیراں ہو، جس فقر کی دستاویز

اے حلقۂ درویشاں وہ مرد خدا کیسا
ہو جس کے گریباں میں ہنگامۂ رستاخیز

جو ذکر کی گرمی سے شعلے کی طرح روشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز

کرتی ہے ملوکیت آثار جنوں پیدا
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیز

یوں داد سخن مجھ کو دیتے ہیں عراق و پارس
یہ کافر ہندی ہے بے تیغ و سناں خوں ریز

ALSO READ:
تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *