Poetry

ملے گا منزل مقصود کا اسي کو سراغ

Spread the love

ملے گا منزل مقصود کا اسي کو سراغ
اندھيري شب ميں ہے چيتے کي آنکھ جس کا چراغ

ميسر آتي ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہيں ہے بندہ حر کے ليے جہاں ميں فراغ

فروغ مغربياں خيرہ کر رہا ہے تجھے
تري نظر کا نگہباں ہو صاحب ‘مازاغ’

وہ بزم عيش ہے مہمان يک نفس دو نفس
چمک رہے ہيں مثال ستارہ جس کے اياغ

کيا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھي نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ

ALSO READ:
یہ کون غزل خواں ہے پر سوز و نشاط انگیز اندیشۂ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *