Articles

ایک مس کال یا کال کا سوال – ولید رمضان

Spread the love

 

گزشتہ 10 سال سے سن سن کر کان تھک گیے تھے کہ جب میں اقتدار میں آوں گا تو دنیا اوپر سے نیچے بلکہ نیچے سے اوپر کردوں گا ہر طرف افراتفری مچادوں گا گہما گہمی پھیلادوں گا پاسپورٹ کی عزت ہوگی یہ نوازشریف تو کچھ نہ کرسکا نوازشریف سے چینی صدر کا کویی بھی دورہ شیڈول نہیں تھا بلکہ سب جھوٹ ہے پھر دنیا نے دیکھا چینی صدر پوری شان سے پاکستان آے اور سی پیک منصوبے کا اعلان عملی شکل اختیار کرگیا دوسری طرف خان کنٹینر پر چڑھ چڑھ کہتے رہے جناب نوازشریف مودی کا یار ہے غدار ہے نوازشریف کو اوباما بھی پسند نہیں کرتا نوازشریف کو انگلش نہیں آتی نوازشریف امریکہ کا غلام ہے پھر وقت گزرتا چلا گیا دنیا نے دیکھا نواز شریف کے سامنے مودی نے سر جھکایا پھر اردگان نے بھی مانا اوباما نے بھی ملاقات کےلیے بلایا چایینہ مسلسل بلاتا بھی رہا اور وہ خود بھی آتا رہا وقت گزرتا گیا نوازشریف منصوبے پر منصوبے کا افتتاح کرتا گیا

خان صاحب کی بےچینی میں اضافہ ہوتا چلا گیا وقت کی رفتار خان صاحب کو دن بدن پریشان حال کرتی گیی پھر وقت آیا دنیا نے دیکھا خان نے نوازشریف کے بغض میں کیا کیا حرکتیں نہیں کیں وقت بدلا خان صاحب حکومت میں آے آتے ہی خان صاحب کے قول اقوال بدل گیے آپکی بدنصیبی کا اندازہ لگاییں خان صاحب 3 سال ہوگیے حکومت میں ایک بار بھی انہیں پوری دنیا سے کسی ملک نے دورے کی دعوت نہ دیں جہاں گیے کشکول توڑتے ہوے خود گیے جو بھی ملک دورے کےلیے آیا کشکول اسکے آگے کردیا اور گاڑی بھی خود چلانے پر بضد رہتے ہوے عمل کرتے رہے خان صاحب ایک ایماندار بہادر لیڈر ہیں اس بات کا ثبوت یہاں ہے کہ خان صاحب جن لوگوں کو نوازشریف کا یار غلام وغیرہ کہتے تھے آج اپنی ایمانداری سے انہی ملکوں انہی لوگوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرنے کے خواہش مند ہیں

لیکن وقت کا ظلم خان صاحب اپنی زبان سے ادا کیے گیے الفاظ کے سامنے شرمندہ تو نہیں لیکن ان گھٹیا الفاظ اور زبان کی قیمت ضرور ادا کریں گے سننے میں آیا ہے خان صاحب اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کیا کسی کی ایک مس کال یا کال تو نہیں آیی اور جواب میں خان صاحب کو کہا جاتا ہے نہیں حضور ہماری بھی یہی التجا ہے کہ “” ایک مس کال یا کال کا سوال ہے””

ولید رمضان

Walid Ramzan
Twitter @walidramzan2

Also read :  محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی | ولید رمضان

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *