Poetry

تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی آج ان خانقہوں میں ہے فقط روباہی

Spread the love

تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی
آج ان خانقہوں میں ہے فقط روباہی

نظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میں
وہ شبانی کہ ہے تمہید کلیم اللہٰی

لذت نغمہ کہاں مرغ خوش الحاں کے لیے
آہ اس باغ میں کرتا ہے نفس کوتاہی

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی

صفت برق چمکتا ہے مرا فکر بلند
کہ بھٹکتے نہ پھریں ظلمت شب میں راہی

ALSO READ:
یہ کون غزل خواں ہے پر سوز و نشاط انگیز اندیشۂ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *