Pakistan

ملکی تاریخ کی مہنگی ترین LNG کی خریداری، ریکارڈز ٹوٹ گئے

Spread the love

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کی مہنگی ترین ایل این جی خرید کر ماضی کے تمام ریکارڈز توڑ دیےگئے۔

صرف 3 ماہ میں 500 ملین ڈالرز یعنی 83 ارب روپے کا نقصان،پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں بتائے گئے حقائق درست ثابت ہونے لگے،پروگرام میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے مہنگی ایل این جی خرید لی۔

پاکستان ایل این جی لیمٹڈنےاکتوبرکے لیے دوبارہ ٹینڈر کیےمگر پھر زیادہ ریٹس آئے، تو پی ایل ایل نےان میں سے دو بڈز قبول کرلی ہیں، جن کا ریٹ 20.28ڈالرزاور 19.84ڈالرز ہے، یعنی 30فیصد کے سلوپ تک جا کر ایل این جی خریدی گئی ہےجو کہ اب تک کی سب سےمہنگی خریداری ہے۔

حکومت تیزی سے صرف 3ماہ میں 500ملین ڈالرز کے نقصان کی طرف بڑھ رہی ہے،اکتوبر میں قبول کی گئی دوبڈز پاکستان 86ملین ڈالرز اضافی ادا کرے گا۔

ستمبر کے مہینے میں چار کارگوز کے 110ملین ڈالرزپی ایل ایل پہلے ہی اضافی ادا کرچکا ہے۔اس کےعلاوہ پی ایس او کی ستمبرکے لیے خریداری اور پی ایل ایل کی اکتوبر کے لیےدو ممکنہ کارگوز کی خریداری پر 100ملین ڈالرز کی اضافی ادائیگی یہ ہوگی۔

تقریباً 300ملین ڈالرز کا نقصان صرف 9ایل این جی کارگوزمیں پاکستان کا کردیا گیا ہے اور ابھی تین کارگوز کا فیصلہ پی ایل ایل نے کرنا ہے،اور ان کا ریٹ بھی 20.96ڈالرز یعنی 30 فی صد کے سلوپ تک ہی ملا ہے۔

پی ایس او کو اکتوبر کے لیے سپلائر ہی نہیں ملایعنی یاتو مہنگا فرنس آئل اور ڈیزل استعمال ہوگایا پھر مہنگی ایل این جی خریدنی پڑے گی۔

مگر ملک کا تین ماہ میں 500ملین ڈالرز یا 83ارب روپے کانقصان صاف نظر آرہا ہے۔

پروگرام میں بتایا گیا کہ تین طویل مدتی معاہدوں کی اوسط 12.8فیصد ہےقطر سے معاہدے 13.3فیصد پرہے،اور آج حکومت 30 فیصد کے سلوپ پر ایل این جی خرید رہی ہے،مگر نیب نے پانچ سال پرانے قطر سےمعاہدے پر نوٹسز جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔

پروگرام کے ذرائع کے مطابق نیب نےدو سابق سیکریٹری پیٹرولیم ، سابق ایم ڈی پی ایس او ، سابق ایم ڈی ایس ایس جی سی، سابق ایم ڈی ایس این جی پی ایل اور سابق ایم ڈی آئی ایس جی ایس کونوٹس جاری کردیا ہے۔

نیب کےنوٹس کے مطابق ہماری تحقیقات سےپتا چلاہے کہ آپ کے پاس ایل این جی اسکیم یعنی قطر سے2015میں ایل این جی کی انتہائی مہنگی ریٹس پر خریداری کی معلومات ہیں۔

ا س لیے نیب کے پنڈی آفس میں اپنے تحریری جواب کے ساتھ پیش ہوں،ساتھ ہی نیب نے سوالنامہ بھی دیا ہے۔اس حوالے سے پروگرام نے نیب کے ترجمان سے پوچھا کہ کیا آپ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ نیب قطر سے 2015میں ایل این جی ڈیل کی تحقیقات کررہا ہےاور کیا یہ سچ ہےکہ نیب نےاس حوالے سے طلبی کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔

کیوں کہ ہمیں ہمارے ذرائع سےنیب کی طلبی کے نوٹس موصول ہوئے ہیں۔کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ نیب اس ڈیل کو اسکیم یعنی جعل سازی پر مبنی ڈیل کیوں کہہ رہا ہے ۔

ہم نےان سے یہ سوال بھی پوچھا کہ نیب نےاپنے نوٹس میں لکھا ہے کہ قطر سے ڈیل بہت مہنگے ریٹس پر ہوئی تو کیاآپ بتاسکتے ہیں کہ نیب اس نتیجے پرکیسے پہنچا کہ قطر سے ایل این جی کی خریداری کا ریٹ اس وقت مارکیٹ ریٹس سے اوپر تھا۔ہم نے ان سے اگلا سوال کیاکہ آپ یہ بتاسکتے ہیں کہ اگر یہ اسکیم ہے توپھرکیا یہ قطری حکومت کے تعاون کےبغیر ہوسکتاتھا؟

کیا نیب کو لگتاہے کہ اس میں قطری حکومت بھی ملوث ہے،ان تمام سوالات کا نیب کے ترجمان نے جواب دیا کہ مجھے ان طلبی کے نوٹسز کی کاپی بھیج دیں،جن کا آپ ذکر کررہے ہیں،تو ہم نے پھر پیغام بھیجا کہ مہربانی کرکے ہمیں اس بات کی ہی تصدیق کردیں کہ نیب قطر سے ایل این جی ڈیل کی ایک اسکیم کے طور پرتحقیقات کررہا ہے یا نہیں،اور اس نے طلبی کے نوٹسز بھیجے ہیں یا نہیں،تو انہوں نے جواب ہی نہیں دیا۔

نیب نے قطر سے 13.3فیصد پر ایل این جی کی خریداری کے پانچ سال پرانے معاہدے پر نوٹسز جاری کرنا شروع کردیئے، نیب نے دو سابق سیکرٹری پٹرولیم، سابق ایم ڈی پی ایس او، سابق ایم ڈی ایس ایس جی سی، سابق ایم ڈی ایس این جی پی ایل اور سابق ایم ڈی آئی ایس جی ایس کو نوٹس جاری کردیا۔ہمارےتمام سوالات کا نیب ترجمان نے ایک جواب دیا کہ مجھے طلبی کے نوٹسز کی کاپی بھیج دیں جن کا آپ ذکر کررہے ہیں۔

تین مہینے میں 500ملین ڈالرز یعنی 83ارب روپے کے نقصان کی ہماری تحقیق درست ثابت ہورہی ہے، آج پاکستان نے 20.28ڈالرز یعنی 30فیصد پر ایل این جی خریدی ہے ، مگر نیب نے پانچ سال پرانے قطر سے 13.3فیصد پر ایل این جی خریدنے کے طویل مدتی معاہدے پر طلبی کے نوٹسز جاری کردیئے ہیں، وزارت پٹرولیم کی نااہلی نے ملک کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ نقصان تو ہونا ہی ہے حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ نقصان ایل این جی خرید کر کرنا ہے یا فرنس آئل اور ڈیزل سے مہنگی بجلی پیدا کر کے کرنا ہے۔

حکومت تیزی سے تین ماہ میں 500ملین ڈالرز کے نقصان کی طرف بڑھ رہی ہے اور عوام اس نقصان کی قیمت اپنے بجلی کے بلوں اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دینے کیلئے تیار ہوجائیں،دوسری طرف نیب نے قطر سے 13.3فیصد پر ایل این جی کی خریداری کے پانچ سال پرانے معاہدے پر نوٹسز جاری کرنا شروع کردیئے ہیں۔

نیب نے دو سابق سیکرٹری پٹرولیم، سابق ایم ڈی پی ایس او، سابق ایم ڈی ایس ایس جی سی، سابق ایم ڈی ایس این جی پی ایل اور سابق ایم ڈی آئی ایس جی ایس کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

نیب نے نوٹس میں لکھا ہے کہ ہماری تحقیق سے پتا چلا ہے کہ آپ کے پاس قطر سے 2014ء سے 2016ء تک ایل این جی کی انتہائی مہنگی ریٹ پر خریداری کی معلومات ہیں اس لئے نیب کے پنڈی آفس میں اپنے تحریری جواب کے ساتھ پیش ہوں،ہم نے اس حوالے سے نیب کو پیغام بھیجا کہ کیا آپ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ نیب قطر سے 2015ء میں ایل این جی ڈیل کی تحقیقات کررہا ہے؟

کیا یہ سچ ہے کہ نیب نے اس حوالے سے طلبی کے نوٹسز جاری کیے ہیں؟ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ نیب اس ڈیل کو scam یعنی جعل سازی پر مبنی ڈیل کیوں کہہ رہا ہے؟ ہم نے ان سے یہ سوال بھی پوچھا کہ نیب نے اپنے نوٹس میں لکھا ہے کہ قطر سے ڈیل بہت مہنگے نرخوں پر ہوئی۔

کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ نیب اس نتیجے پر کیسے پہنچا کہ قطر سے ایل این جی کی خریداری کا ریٹ اس وقت مارکیٹ ریٹس سے اوپر تھا؟ ہم نے ان سے اگلا سوال پوچھا کیا آپ یہ بتاسکتے ہیں کہ اگر یہ scam ہے تو پھر کیا یہ قطری حکومت کے تعاون کے بغیر ہوسکتا تھا؟

کیا نیب کو لگتا ہے کہ اس میں قطری حکومت بھی ملوث ہے؟ ان تمام سوالات کا نیب ترجمان نے ایک جواب دیا کہ مجھے طلبی کے نوٹسز کی کاپی بھیج دیں جن کا آپ ذکر کررہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *