Poetry

کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا

Spread the love

کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا

اور اسير حلقہ دام ہوا کيونکر ہوا

جائے حيرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں ميں

مجھ کو يہ خلعت شرافت کا عطا کيونکر ہوا

کچھ دکھانے ديکھنے کا تھا تقاضا طور پر

کيا خبر ہے تجھ کو اے دل فيصلا کيونکر ہوا

ہے طلب بے مدعا ہونے کي بھي اک مدعا

مرغ دل دام تمنا سے رہا کيونکر ہوا

ديکھنے والے يہاں بھي ديکھ ليتے ہيں تجھے

پھر يہ وعدہ حشر کا صبر آزما کيونکر ہوا

حسن کامل ہي نہ ہو اس بے حجابي کا سبب

وہ جو تھا پردوں ميں پنہاں ، خود نما کيونکر ہوا

موت کا نسخہ ابھي باقي ہے اے درد فراق!

چارہ گر ديوانہ ہے ، ميں لا دوا کيونکر ہوا

تو نے ديکھا ہے کبھي اے ديدہء عبرت کہ گل

ہو کے پيدا خاک سے رنگيں قبا کيونکر ہوا

پرسش اعمال سے مقصد تھا رسوائي مري

ورنہ ظاہر تھا سبھي کچھ ، کيا ہوا ، کيونکر ہوا

ميرے مٹنے کا تماشا ديکھنے کي چيز تھي

کيا بتائوں ان کا ميرا سامنا کيونکر ہوا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *