Poetry

الہي عقل خجستہ پے کو ذرا سي ديوانگی سکھا دے

Spread the love

الہي عقل خجستہ پے کو ذرا سي ديوانگی سکھا دے

اسے ہے سودائے بخيہ کاري ، مجھے سر پيرہن نہيں ہے

ملا محبت کا سوز مجھ کو تو بولے صبح ازل فرشتے

مثال شمع مزار ہے تو ، تري کوئي انجمن نہيں ہے

يہاں کہاں ہم نفس ميسر ، يہ ديس نا آشنا ہے اے دل!

وہ چيز تو مانگتا ہے مجھ سے کہ زير چرخ کہن نہيں ہے

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنايا

بنا ہمارے حصار ملت کي اتحاد وطن نہيں ہے

کہاں کا آنا ، کہاں کا جانا ، فريب ہے امتياز عقبي

نمود ہر شے ميں ہے ہماري ، کہيں ہمارا وطن نہيں ہے

مدير ‘مخزن’ سے کوئي اقبال جا کے ميرا پيام کہہ دے

جوکام کچھ کر رہي ہيں قوميں ، انھيں مذاق سخن نہيں ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *