Poetry

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام

Spread the love

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام

وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام!

پير حرم نے کہا سن کے مري روئداد

پختہ ہے تيري فغاں ، اب نہ اسے دل ميں تھام

تھا ارني گو کليم ، ميں ارني گو نہيں

اس کو تقاضا روا ، مجھ پہ تقاضا حرام

گرچہ ہے افشائے راز ، اہل نظر کي فغاں

ہو نہيں سکتا کبھي شيوہ رندانہ عام

حلقہ صوفي ميں ذکر ، بے نم و بے سوز و ساز

ميں بھي رہا تشنہ کام ، تو بھي رہا تشنہ کام

عشق تري انتہا ، عشق مري انتہا

تو بھي ابھي ناتمام ، ميں بھي ابھي ناتمام

آہ کہ کھويا گيا تجھ سے فقيري کا راز

ورنہ ہے مال فقير سلطنت روم و شام

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *