NewsPakistanPoliticsUrdu News

لاہورمیں کالعدم تنظیم کے کارکنان اور پولیس میں تصادم، 2 اہلکار شہید

Spread the love
لاہور: ایم اے کالج چوک میں پولیس اور کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے باعث بھگدڑ مچ گئی اور دو اہلکار مظاہرین کی گاڑی کے نیچے آنے سے شہید ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) لاہور میں احتجاج کر رہی ہے اور صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ایم اے کالج میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔
تصادم کے باعث بھگدڑ مچ گئی جس کے دوران دو پولیس اہلکار مظاہرین کی گاڑی کے نیچے آئے اور شہید ہوگئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ گوالمنڈی تھانے میں تعینات ایوب اور خالد نے ڈیوٹی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے ایس ایچ او کی جانب سے 6 اہلکار زخمی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی۔
ہم نے پنجاب کابینہ کے سینئر اراکین راجہ بشارت صاحب اور چوہدری ظہیر الدین صاحب پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کر سکیں۔
سنت رسول کے مطابق ہم سب کو مل کر ملک میں امن اور ہم آہنگی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
– عثمان بزدار (sUsmanAKBuzdar) 22 اکتوبر 2021۔
لاہور میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے لیے دھرنے میں شریک اب اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں ، اس دوران کئی مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات کے لیے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور پراسیکیوشن وزیر چوہدری ظہیر الدین پر مشتمل دو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

لاہور پولیس کے جوان شہید ہوئے۔

پنجاب حکومت کی درخواست پر وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو لاہور داتا صاحب ، شاہدرہ اور راوی پل میں انٹرنیٹ معطل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ کالعدم جماعت نے منگل کے روز عید میلاد النبی کے جلوس کو اپنے رہنما حافظ سعد رضوی کی رہائی کے لیے دھرنے کے احتجاج میں تبدیل کر دیا تھا۔ امیر سعد رضوی کو 12 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button