NewsPakistanUrdu News

نسلہ ٹاور کے مکینوں نے عمارت خالی کرنا شروع کردی

Spread the love

کراچی: مقامی انتظامیہ کے عملے کو ٹاور میں خالی جگہ خالی کرنا شروع کر دیا ہے۔ ناظم کراچی کی جانب سے نسلہ ٹاور کے محفوظ مقامات کو تاحال فلیٹس کی رقم واپس نہیں کی جاسکی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق واقعہ کی طرف سے شارع فیصل پر قائم 15 منزل نسل عمارت عمارت ٹاور کو ایک ہفتہ خالی کر کے منہدم کرنے کے حکم پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا کمشنر کراچی کے انتظامات پر عمارت کی نسلہ ٹاور کے گیس، پانی اور بجلی کے کنکشنز کے تین روز قبل منقطع کر کے چلے گئے، بجلی منقطع ہونے کے بعد گھر کو سامان منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اپنی گاڑیوں میں کا منتقل کر رہے ہیں، ٹاور کے حوالے کرنے والے فلیٹ مالکان نے بھی سامان منتقل کرنا شروع کیا۔

کراچی ٹاور کے 44 فلیٹس میں 14 کرائے داروں سے 22 سال سے زائد عرصے سے فلیٹس مالکان فلیٹ خالی کرچکے ہیں، کراچی کمشنر نے عمارت خالی کرنے کے لیے اتوار کے روز تک مہلت دے دی جبکہ کراچی کی جانب سے عمارت کی تعمیرات کو فلیٹس کی رقم واپسی کے لیے تاحال کوئی ایجنڈا یا طریقہ کار تیار نہیں کیا گیا۔
بسی کی تصویر کے فلیٹس کے تصور کو خالی کرنے پر ہمیں مجبور کیا گیا ہے، اس موقع پر نسلی ٹاور کو محفوظ کرنے کا کہنا تھا کہ اب تک رقم واپس کرنے سے کوئی یقین نہیں کر سکتا، عدالت کے نظام پر مکمل عملداری نہیں ہے۔ کیا آگے، عمارت کی پانی، بجلی اور گیس کے کنکشن تو منقطع کردئیے گئے ہیں لیکن رقم واپس کرنے سے متعلق کوئی رقم نہیں دکھاتے، ہمارے ساتھ سراسر قسم کی قسم ہے، ہم عدالت کے حکم پر عمل کرنے کے پابند ہیں، رقم ہے۔ واپسی کے لیے بغیر ہی عمارت سے سامان خالی کرنے پر مجبور ہیں، ہمارے پاس سے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں نکل سکتا، ہمارے پاس رقم واپس کرنے کے لیے عدالت سے بھی رجوع کرنے کے وقت، کرائے کے لیے جگہ جگہ نشان لگا دیا گیا ہے۔ لیکن کوئی جگہ بھی آسانی سے نہیں مل رہی۔

اس موقع پر رکن بلوچ کا کہنا تھا کہ کل سے ابتک کے بارے میں بائس فلیٹ خالی ہو گئے ہیں، کچھ فلیٹ مکینوں کو کرائے پر ملی اس وقت وہ عمارت میں موجود ہیں، کچھ اور سیز پاکستانی بھی مقیم تھے۔ اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں اور ان سے رابطہ نہیں کیا جا سکتا، ڈاکٹر کراچی سے درخواست ہے کہ چند افراد کے لیے عمارت کی بجلی بحال کی جائے تاکہ سامان لفٹ کے باآسانی منتقل کیا جائے، جینر کب تک کام کو لفٹ بند کر دیا جائے۔ سامان کی تبدیلی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

واضح رہے کہ عدالت نے کہا ہے کہ نسلہ ٹاور کیس کے تحریری قانون میں حکم دیا گیا ہے کہ نسلہ ٹاور گرکےلیجدید ڈیوائسز کا استعمال کیا جائے، اس دوران کوئی جانی نقصان نہ ہو، نسلہ ٹاور گرانے کا عمل 27 اکتوبر کو ایک ہفتے کے بعد مکمل ہوا۔ کیا جائے گا اور بلکل منہدم کرنے کے لیے نسلوں کو ٹاور کے مالک کے لیے اگر مالک رقم نہ دے تو کمشنر کراچی کو رقم سے رابطہ کریں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button