Poetry

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط

Spread the love


دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط
اور مل گئی خوشی تو اچھالے تمہارے خط

سب چوڑیاں تمہاری سمندر کو سونپ دیں
اور کر دیے ہوا کے حوالے تمہارے خط

میرے لہو میں گونج رہا ہے ہر ایک لفظ
میں نے رگوں کے دشت میں پالے تمہارے خط

یوں تو ہیں بے شمار وفا کی نشانیاں
لیکن ہر ایک شے سے نرالے تمہارے خط

جیسے ہو عمر بھر کا اثاثہ غریب کا
کچھ اس طرح سے میں نے سنبھالے تمہارے خط

اہل ہنر کو مجھ پہ وصیؔ اعتراض ہے
میں نے جو اپنے شعر میں ڈھالے تمہارے خط

پروا مجھے نہیں ہے کسی چاند کی وصیؔ
ظلمت کے دشت میں ہیں اجالے تمہارے خط

.:::::ALSO READ:::::.
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو

کیوں ہر ایک شے ہمیں ادھوری سی لگتی ہے جانے کیا چھوڑ کے آئے ہیں تیری گلیوں میں

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button