Poetry

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی

Spread the love


:::::::::::::::::::::::::::::::::

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی

وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی

اس زمیں پر بھی ہے سیلاب مرے اشکوں سے
میرے ماتم کی صدا عرش ہلاتی ہوگی

شام ہوتے ہی وہ چوکھٹ پہ جلا کر شمعیں
اپنی پلکوں پہ کئی خواب سلاتی ہوگی

اس نے سلوا بھی لیے ہوں گے سیہ رنگ لباس
اب محرم کی طرح عید مناتی ہوگی

میرے تاریک زمانوں سے نکلنے والی
روشنی تجھ کو مری یاد دلاتی ہوگی

روپ دے کر مجھے اس میں کسی شہزادے کا
اپنے بچوں کو کہانی وہ سناتی ہوگی


.::::ALSO READ::::.
دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button