Poetry

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے

Spread the love

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے

کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے

محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا

مری ہر کیفیت میں استخارہ ساتھ ہوتا ہے

سفر میں عین ممکن ہے میں خود کو چھوڑ دوں لیکن

دعائیں کرنے والوں کا سہارا ساتھ رہتا ہے

مرے مولا نے مجھ کو چاہتوں کی سلطنت دے دی

مگر پہلی محبت کا خسارہ ساتھ رہتا ہے

اگر سیدؔ مرے لب پر محبت ہی محبت ہے

تو پھر بھی کس لیے نفرت کا دھارا ساتھ رہتا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button