Poetry

جناب شیخ کی ہرزہ سرائی جاری ہے

Spread the love

جناب شیخ کی ہرزہ سرائی جاری ہے

ادھر سے ظلم ادھر سے دہائی جاری ہے

بچھڑ گیا ہوں مگر یاد کرتا رہتا ہوں

کتاب چھوڑ چکا ہوں پڑھائی جاری ہے

ترے علاوہ کہیں اور بھی ملوث ہوں

تری وفا سے مری بے وفائی جاری ہے

وہ کیوں کہیں گے کہ دونوں میں امن ہو جائے

ہماری جنگ سے جن کی کمائی جاری ہے

عجیب خبط مسیحائی ہے کہ حیرت ہے

مریض مر بھی چکا ہے دوائی جاری ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button